مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت الله سید محمد سعیدی نے قم المقدسہ میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں ہفتۂ وحدت اور صادقین علیہما السّلام کی ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے تبریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد اور باہمی یکجہتی، اسلامی معاشرے کی تشکیل کے اہم ارکان تھے اور صدرِ اسلام کا تجربہ بتاتا ہے کہ مسلمان باہمی یکجہتی کے سایے میں سخت حالات سے نمٹنے اور ایک طاقتور معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوئے۔
انہوں نے اوس و خزرج کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب دونوں قبائل نے باہمی اختلافات کے نقصانات کو محسوس کیا تو اسلام کی طرف آئے اور اس کے ذریعے نجات حاصل کی۔
امام جمعہ قم نے کہا کہ مسلمانوں کے باہمی اختلاف، ان کی طاقت اور عالمی اثر و رسوخ کو کم کرتا ہے اور دشمنوں کو مداخلت کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ مسلمان متحد رہے تو بڑی کامیابیاں حاصل کیں، لیکن جب ان کے درمیان اختلاف پیدا ہوا تو دشمنوں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ اس لیے موجودہ چیلنجز سے نکلنے کا اہم راستہ اتحاد کو برقرار رکھنا ہے۔
آیت اللہ سعیدی نے ایرانی عوام کو ملک کی طاقت کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے ملک کی آزادی، خودمختاری، ارضی سالمیت اور اسلامی نظام کے دفاع میں ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا ہے۔
امام جمعہ قم نے حالیہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں بھی عوام نے میدان میں رہ کر ملک کے استحکام اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
آیت الله سعیدی نے دشمن کی جانب سے ثقافتی اور میڈیا ذرائع کے ذریعے معاشرے کو متاثر کرنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی بیداری اور میڈیا سے متعلق شعور میں اضافہ اس جنگ کا مقابلہ کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر تصویر، ویڈیو اور خبر نفسیاتی جنگ کا حصہ ہو سکتی ہے، اس لیے جعلی خبروں اور گمراہ کن بیانیوں کو پہچاننا ضروری ہے۔ موجودہ دور میں ہر شہری کو ذمہ داری کے ساتھ میڈیا کا استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ جنگ میں بیداری، بصیرت اور قومی یکجہتی انتہائی اہم ہیں۔
امام جمعہ قم نے سورۂ فتح کی آیت 28 کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی گواہی انسان کو ظاہری حالات سے متاثر ہوکر جلد بازی میں فیصلہ کرنے کے بجائے اللہ کی تدبیر پر اعتماد کا درس دیتی ہے۔
انہوں نے واقعۂ حدیبیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر مشکل حالات بھی حق کی شکست کی علامت نہیں ہوتے، کیونکہ دینِ حق کی سربلندی کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے خود کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ